ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ہم طالبان کو دہشت گرد نہیں مانتے ، آزادی کیلئے لڑنا اگر دہشت گردی ہے تو پھر نہرو، گاندھی اورشیخ الہندؒ بھی دہشت گرد تھے:مولانا ارشد مدنی

ہم طالبان کو دہشت گرد نہیں مانتے ، آزادی کیلئے لڑنا اگر دہشت گردی ہے تو پھر نہرو، گاندھی اورشیخ الہندؒ بھی دہشت گرد تھے:مولانا ارشد مدنی

Mon, 13 Sep 2021 11:02:53    S.O. News Service

دیوبند،13؍ستمبر(ایس او نیوز؍ایجنسی)جمعیۃ علما ہند کے صدر اور بزرگ رہنما مولانا سید ارشد مدنی نے کہاکہ ہم طالبان کو دہشت گرد نہیں مانتے - آزادی کیلئے لڑنا اگر دہشت گردی ہے تو پھر نہرو، گاندھی اورشیخ الہندؒ بھی دہشت گرد تھے-ہندی اخبار ”دینک بھاسکر“کو دیئے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہاکہ طالبان دہشت گرد نہیں ہیں،اگر وہ غلامی کی زنجیریں توڑ کر آزاد ہورہے ہیں تو اس کو دہشت گرد ی نہیں کہیں گے-آزادی سب کاحق ہے -اگرنہیں تو وہ سارے لوگ جنہوں نے انگریز حکومت کے خلاف لڑائی لڑی،سارے دہشت گرد ہیں - دینک بھاسکر نے ان سے سوال کیا کہ دارالعلوم اور طالبان میں کیا رشتہ ہے اور طالبان کی فکر سے کتنا اتفاق رکھتا ہے،کیا ان کی دہشت گردی کے خلاف کوئی فتویٰ دے گا-؟ انہوں نے کہاکہ یہ جہالت کی بات ہے - نادانی ہے-لوگوں میں فتوے کی سمجھ نہیں ہے - فتویٰ کسی کو پابند نہیں بناتا- ماننا نہ ماننا آپ کی مرضی-انہوں نے کہا کہ علما ء نے ملک کی آزادی کیلئے جو قربانیاں دیں، اس کا موازانہ نہیں کیا جاسکتا -1915میں ترکی اور جرمنی کی مدد سے شیخ الہند نے افغانستان کے اندر آزاد ہند نام کی ایک جلاوطن حکومت قائم کی - اس میں راجہ مہندر پرتاپ سنگھ صدر اور مولانا برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور عبیداللہ سندھی کو وزیر داخلہ بنایا تھا- جو لوگ خود کو دیوبندی سمجھتے تھے، یہی وہ ہیں جو شیخ الہند کے مریدین کی نسل سے ہیں،لیکن یہاں دارالعلوم آکر کسی نے تعلیم حاصل نہیں کی- میں پوچھتا ہوں کہ وہ کون سی حکومت ہے جس نے افغانیوں کو ویزا دے کر ہمارے یہاں پڑھنے کو بلایا-مولانا ارشد مدنی نے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ طالبان کانظریہ ہے کہ وہ غلامی قبول نہ کرے،ہمارے آبا ؤاجداد کی بھی یہی فکر تھی- دارالعلوم غلامی کی مخالفت کیلئے ہی بنا- طالبان نے اس فکر کے تحت روس اور امریکہ کی غلامی کی زنجیروں کو توڑا- باقی ہمارا ان سے کوئی تعلق نہیں - آج کل توہم خط بھی لکھتے ہیں توسینسر ہوتا ہے - فون ریکارڈ ہوتا ہے کوئی یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ دارالعلوم کا کوئی شخص طالبانیوں سے بات کرتا ہے - دینک بھاسکر نے پوچھا کہ طالبان سرکار کے بارے میں رائے قائم کرنے کیلئے کتنا وقت لیں گے؟ مولانا نے کہاکہ ہم کون ہوتے ہیں وقت دینے والے یہ تو مستقبل بتائے گا،ہم سیاسی لوگ نہیں ہیں -


Share: